Economy تجارتی خبریں

کاروباری سرگرمیاں پیدا نہ ہونے کی وجہ سے تاجر طبقہ انتہائی پریشان ہے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) کاروباری سرگرمیاں نہ پیدا ہونے کی وجہ سے تاجر طبقہ انتہائی پریشان ہے ۔ حکومت تاجروں کے ٹیکسوں سے چلتی ہے ۔اگر تاجر کو حکومت ریلیف نہیں دے گی تو تاجر برادری ٹیکس بھی نہیں دے گی ۔ امریکی ٹیکس جگہ ٹیکس یہ حکومت کا کارنامہ ہے۔حکومت سے اپنے جائز مطالبات منوانے اور ریلیف لینے کے لیے تاجروں کو اپنے اتحاد کو مذید مظبوط اور تنظیم کو فعال بنانا ہو ۔ جب تک شہر میں تجاوزات اور پارکنگ کا مسئلہ موجود ہے تمام تر کوششوں کے باوجود شہر کو مکمل طور پر شہر کو خوبصورت نہیں بنایا جا سکتا ۔ان خیالات کا اظہار صحافیوں سے گفتگو کرتے ہو ئے انجمن تاجران شیر گروپ چیئرمین لارڈ میئر انشاء اللہ متوقع امیداور چوہدری امتیاز ربانی بلو نے کہا کہ تاجروں کے ٹیکسوں پر عیش کرنے والی کسی پارلیمنٹ میں تاجروں کو ریلیف دینے کا قانون نہیں بنایا۔ ملک کی تاجر برادری سب سے مظلوم طبقہ ہے جو قیام پاکستان سے اب تک اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر اپنے خون پسینے کی کمائی سے قومی خزانہ بڑھتی چلی آرہی ہے ۔کارباری سرگرمیاں نہ پیدا ہونے کی وجہ سے تاجر طبقہ بہت پریشان ہے لیکن ریلیف دینے کی بجائے انہیں نچور اور خواص نوازا جا رہا ہے ۔انجمن تاجران شیرگروپ ایک بار پھر لنگوٹ کسنے کے لیے تیار ہے۔اس کی کامیابی کے لیے پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو آگے آنا ہو گا ۔شہر کے تاجر بھرپور تعاون کریں گے ۔