اہم خبریں کھیل

فکسنگ سکینڈل کیس: بیٹسمین عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد


لاہور(بیورو چیف)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2020 سے قبل معطل ہونے والے بیٹسمین عمر اکمل پر تین سال کی پابندی لگا دی گئی اس دوران بیٹسمین کسی قسم کی کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2020 سے قبل اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر بیٹسمین عمر اکمل کو معطل کر دیا تھا۔ انہیں اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کے تحت معطل کیا گیا تھا، جس کے بعد عمر اکمل اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے جاری تحقیقات مکمل ہونے تک کرکٹ سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔پی سی بی کے بیان میں کہا گیا تھا کہ فی الحال عمر اکمل کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں لہذا بورڈ اس معاملے پر مزید کوئی بیان جاری نہیں کرے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عمر اکمل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے پی ایس ایل میں حصہ نہیں لے سکتے اس لیے تحقیقات کے دوران کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پی ایس ایل 2020 کے لیے عمر اکمل کے متبادل کھلاڑی کا انتخاب کرنے کی اجازت ہو گی۔اسی دوران پاکستان کرکٹ بورڈ نے پینل تشکیل دیا جس کی سربراہی جسٹس (ر) فضلِ میراں چوہان کو دی گئی، اور کہا گیا تھا کہ اس کیس کی سماعت 27 اپریل کو ہو گی، جس کے بعد فصل میراں چوہان نے نوٹس جاری کر دیئے تھے۔گزشتہ روز کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عمر اکمل اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے حکام پیش ہوئے، سماعت کے بعد عمر اکمل ڈسپلنری پینل کی سماعت ختم ہوئی تو بیٹسمین عمر اکمل اور جسٹس ریٹائرڈ فضل میراں چوہان این سی اے سے واپس روانہ ہوگئے۔کیس کی سماعت کے بعد ڈسپلنٹری پینل کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر) فضل میراں چوہان نے بیٹسمین عمر اکمل پر تین سال کی پابندی لگا دی جس کے بعد بورڈ حکام کی طرف سے کہا گیا کہ بیٹسمین تین سال کے دوران کسی قسم کی بھی کرکٹ سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی پی سی بی لیفٹیننل کرنل (ر) آصف محمود کا کہنا ہے کہ کرپشن چارجز کے باعث ایک بین الاقوامی کرکٹر پر تین سال کی پابندی پر ہی پی سی بی کو کوئی خوشی نہیں ہو رہی مگر یہ ان سب افراد کے لیے ایک بر وقت یاد دہانی ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کر کے بچ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن یونٹ باقاعدگی سے ہر سطح پر ایجوکیشن سیمینارز اور ریفریشر کورسز کا اہتمام کرتا ہے تمام کرکٹرز کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے تاہم پھر بھی اگر کچھ کرکٹرز قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے تو پھر اس کا نتیجہ یہی نکلے گا۔ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی پی سی بی کا کہنا تھا کہ وہ تمام پروفیشنل کرکٹرز سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بدعنوانی کی لعنت سے دور رہیں اور کسی بھی جانب سے رابطے کی صورت میں متعلقہ حکام کو فوری طور پر آگاہ کریں۔ یہ ان کے ، ٹیم اور ملک کے بہترین مفاد میں ہے۔